حکومت پاکستان کی جانب سے اعلٰی تعلیم (پی ایچ ڈی) کے لئے فل اسکا لرشپ پے برونِ ملک بھجئے گئے 132 افراد میں سے 80 افراد بگوڑے نکلے۔

ہم پاکستانی لوگ خواہ تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ ،غریب ہویا آمیر ہرکوئی اپنے حیثیت کے  حصاب سے جہاں موقع ملتا ہے اپنی بیمانی اور بے ضمیری میں اپنی مثال اپ رکھتے ہئیں۔ اپنی گربان میں جھانکنے کے بجائے ہرخاص وعام سیاسی لوگوں کو جی بھر کربرا بھلا کہتے ہئیں۔ پاکستانی سیاست تو ہے ہی غلیض لیکن بدقسمتی ملک کے کسی بھی شعبے پے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ گویا پاکستان کو چور، ڈاکو، رشوت خور اور بدمعاش نسل کی پیداوری کے لیے بنایا گیا ہو۔ 

حال ہی میں جو وقعات مملکتِ خدادات میں ہو رہے ہیئں وہ یقیناََ ہر باشعور انسان کے لے کسی المیے سے کم نہیں۔ بہر حال وہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں جو کچھ لاہور موٹر وے میں اورنامو نہاد مدرسے میں ۱۳ سالہ لڑکے کے ساتھ جو ہوا س کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہیں۔ جب تک ہمارے فرسودہ نظام انصاف ایسا ہی چالتا رہے گا تب تک یہ سب ہمارے لئے کوئی حیران کن بات نہیں  ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ تعلیم انسان میں شعور، اچھے برے میں فرق، حلیمی اور سخاوت پیدا کرتا ہے اور ہمارا مذہب اسلام بھی تعلیم کوہر فرد پر فرض قراردیکر اسے عبادت جتنا افضل مقام عطا کیا ہے  مگر اسی فرض کی تکمیل کے نام سے کیسے ہر سال اسلامی حکومت پاکستان کے خزانے کو لوٹا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پی ایچ ڈی کے لئے برونِ ملک جانے والے 132 افراد میں سے 80 افراد پاکستان واپس ہی نہیں آئے۔ اور یہ لوگ پاکستان کے خزانے سے فل اسکالرشپ پے باہر پڑھنے گئے ہوئے تھے اور ہر اے بندے پے جو خرچہ اتا ہے ہو ہم سوچ بھی نہئں سکتے۔ اس سکالرشپ میں جو بھی جاتا ہے وہ حکومت سے معاہدہ کر کے جاتا ہے کہ وہ واپس آ کر کم از کم دو سال تک ملک کی خدمت کرے گا۔ لیکن ہمارے وہ پاکستانی جو اپنا مطلب نکال کر پاکستان کو رہنے کے لئے قابل ہی نہی سمجتے ہیں۔ یہی نہی بلکہ ہر سال درجنوں افراد جو پی ایچ ڈی کے لئے بروں ملک ہمارا اتنا سارا پیسے لے کر جاتا ہیں وہ وہاں اپنا مضامین ہی پاس نہئں کر سکتے ہیئں اور یہ ان کی سلیکٹر پر بھی سوالیہ نشاں ہے۔ 

یورپ ممالک جوچاند پرقدم جمایا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں انتہاکو پنچا، انسانیت کی خدمت کے لئے نت نئے ایجادات کیئے وہاں اج بھی اس بے بسی کی زنداگی گزارنے پر مجبور  ہئیں جہاں نا جاں ومال محفوض ہے نا عزت، نا بجلی ہے نا گیس، پانی اور سڑکوں کا نظام کا تو پوچھو ہی نہیں۔ حکمران ہمیں یہ تسلیاں دےتے رہتے ہیں کہ اج سب ٹھیک ہوگا، کل ہوگا مگر یہ سارے صورت حال دیکھ کرایسا لگ رہا ہے کہ :


 اِک زندگی عمل کےلئے بھی نصیب ہو
 یہ زندگی تونیک ارادوں میں کٹ گئ۔  

 

PhD Scholarship USA Scholarship
A
@ 23/09/2020
© All right reserved 2026